مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ صہیونی حکومت اور اس کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا سیاسی دھچکا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 جون کو 14 نکاتی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط کیے تھے۔ کئی ماہ کے مذاکرات کے بعد طے پانے والے اس معاہدے میں پاکستان نے ثالثی کا کردار ادا کیا، جبکہ دیگر علاقائی ممالک نے بھی اس عمل کی حمایت کی۔
اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ صہیونی حکومت ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی حکومت امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے بے تاب ہے۔ اس مفاہمت تک پہنچنا نیتن یاہو کے سیاسی خاتمے کا سبب بن سکتا ہے اور حتیٰ کہ اس کی گرفتاری کی راہ بھی ہموار کر سکتا ہے۔
پاکستانی وزیر دفاع نے مزید کہا کہ مغربی طاقتیں بھی صہیونی حکومت کے جرائم میں شریک ہیں اور اس کے مغربی اتحادی مقبوضہ مغربی کنارے، غزہ اور لبنان میں جاری نسل کشی میں اس کے شراکت دار بنے ہوئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ